
قیمتی پتھروں اور جیولری کی تجارت کی بحالی تاخیر کا شکار!
ذرائع کے مطابق وزارتِ تجارت قیمتی پتھروں اور زیورات کی درآمد و برآمد کی بحالی میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکی ہے،
کیونکہ اس مقصد کے لیے درکار ایس آر او (SRO 760) کی منظوری تاحال وزیراعظم آفس میں رکی ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر کی یقین دہانی بھی بے اثر:
8 اگست 2025 کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے آل پاکستان اسمال جیمز جیولرز اینڈ ٹولز ایسوسی ایشن سے ملاقات کی تھی۔
انہوں نے اس موقع پر ایس آر او کی جلد بحالی کی یقین دہانی کروائی تھی اور صنعت کے نمائندوں کی
پیش کردہ تجاویز کو بھی سراہا تھا، مگر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔
ایکسپورٹرز کا آن لائن اجلاس اور فوری بحالی کا مطالبہ:
وزارتِ تجارت نے جیولری برآمدکنندگان کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس بھی منعقد کیا،
جس میں تاجروں نے ایس آر او کی بحالی کو فوری ممکن بنانے پر زور دیا۔
برآمدکنندگان نے شکایت کی کہ ان کے درآمدی اور ری ایکسپورٹ آرڈرز تاخیر کا شکار ہیں،
اور 50 کلوگرام سونا بندرگاہ پر پھنسا ہوا ہے۔
ایس آر او کی معطلی اور کمیٹی کی تشکیل:
ایس آر او 760(1) 2023 کو 2 مئی 2025 کو وفاقی کابینہ نے معطل کر دیا تھا۔
اس کے بعد ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تاکہ اس قانون میں موجود خامیوں کا جائزہ لے کر بہتری کی تجاویز دی جا سکیں۔
کمیٹی کو 60 دن میں رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
کمیٹی کی سفارشات اور وزیراعظم آفس کی ہدایت:
کمیٹی نے پانچ اجلاس منعقد کیے اور اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ 4 جولائی 2025 کو وزیراعظم آفس
میں جمع کروا دی۔
بعد ازاں 28 جولائی کو وزیراعظم آفس نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ نجی شعبے کے نمائندوں سے بھی مشاورت کی جائے۔
8 اگست کو کمیٹی نے جیولری برآمدکنندگان سے ملاقات کی، جس میں تمام فریقین نے سفارشات پر اتفاق کیا۔
وزارتِ تجارت کی وزیراعظم کو حتمی رپورٹ:
کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے وزارتِ تجارت نے وزیراعظم کو باضابطہ نوٹ ارسال کیا،
جس میں ایس آر او کی بحالی کی سفارش کی گئی۔ نوٹ میں بتایا گیا کہ ڈیٹا میں کوئی تضاد سامنے نہیں آیا۔
عالمی خریدار قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں:
ایک برآمدکنندہ کے مطابق،
پاکستانی جیولری ایکسپورٹرز کے غیر ملکی خریدار اب اپنے پاکستانی شراکت داروں کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں،
کیونکہ وہ وقت پر مال فراہم نہ کرنے کی وجہ سے معاہدوں کی خلاف ورزی کر چکے ہیں۔