
فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے برطرفی کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا!
امریکی فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
اُن کا مؤقف ہے کہ صدر کی یہ کارروائی نہ صرف ان کے تقرر کے خلاف ہے بلکہ فیڈرل ریزرو کی خودمختاری کو بھی متاثر کرتی ہے۔
عدالت میں دائر درخواست کے مطابق، گورنر کُک نے فوری عدالتی حکم جاری کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ
اُن کی حیثیت بحال رہے اور دیگر مالیاتی اداروں کی خودمختاری کو بھی تحفظ حاصل ہو۔
یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے کُک کو برطرف کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے اُن پر رہائشی قرضوں میں مبینہ غلط بیانی کا الزام لگایا ہے،
تاہم اب تک اُن پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدام کامیاب ہو گیا تو یہ فیڈ کی
تاریخ میں پہلا موقع ہو گا کہ کسی صدر نے براہ راست گورنر کو برطرف کیا ہو،
جو کہ ادارے کی غیرجانبداری کے لیے خطرناک نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
سیمی کنڈکٹر چپس درآمدات پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا، ٹرمپ