
کراچی: کے الیکٹرک (کے ای) کا 111 واں سالانہ اجلاس عام (اینوول جنرل میٹنگ) چیئرمین کے الیکٹرک بورڈ شان اشعری کی زیرصدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں کے ای کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی، چیف فنانشل آفیسر عامر غازیانی، چیف رسک آفیسر اور کمپنی سیکریٹری رضوان پسنانی، چیف پیپل آفیسر رضوان ڈالیہ، چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونی کیشن آفیسر سعدیہ دادا، اوردیگر بورڈ ممبران اور کے ای کی قیادت نے شرکت کی۔ کوویڈ 19 وبا کے باعث اس اجلاس کا انعقاد آن لا ئن کیا گیا۔
اجلاس میں شیئر ہولڈرز کو ادارے کو درپیش مختلف چیلنجز سے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، جس میں یہ بتایا گیا کہ مختلف سرکاری محکموں پر (با تاریخ30 جون 2021 تک اصولی بنیاد پر 57.6 ارب روپے) سے زائد رقم واجب الادا ہیں۔ اور ٹیرف کے ردوبدل میں تاخیر کا براہ راست اثر کمپنی کی مالی صورتحال پر پڑرہا ہے، جس کے نتیجے میں ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کمپنی کو مہنگے قرضے لینے پڑرہے ہیں۔
مذکورہ بالا مسائل کے باوجود کمپنی مکمل طور پرپُرعزم ہے اور رواں سال اس نے اپنی پاور ویلیو چین میں تقریباََ 81 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مالی صورتحال کافی مستحکم رہی۔ کے ای کو مالی سال 2021ء میں 11,998 ملین روپے کا منافع ہوا۔ جب کہ مالی سال 2020 میں کمپنی کو 2,959 ملین روپے کا نقصان ہوا تھا۔ کمپنی کی مالی سال 2021 کی فی حصص آمدن (ای پی ایس) 0.43 ہو گئی، جو مالی سال2020 میں 0.11 خسارے میں تھی۔
کے الیکٹرک کے اثانوں کی کُل مالیت 835 ارب روپے ہوگئی جو مالی سال 20ء میں 703 ارب روپے تھی۔ مالی سال 2021 میں کے الیکٹرک کی آپریشنل کارکردگی بھی شاندار رہی اور مالی سال 2020 کے مقابلے میں کمپنی کی یونٹس سینٹ آؤٹ میں پچھلے سال کے مقابلے9.6 فیصد اضافہ ہوا۔
مزید برآں نقصانات کو کم کرنے کی حکمت عملی کے تحت کیے گئے اقدامات کی بدولت کمپنی کے ترسیل و تقسیم (T&D) نقصانات جو مالی سال 2020 میں 19.7 فیصد پر تھے، مالی سال 2021 میں کم کر ہوکر 17.5 فیصد پر آ گئے۔
آر ایل این جی سے چلنے والے 900 میگاواٹ کے بن قاسم پاور اسٹیشن III (BQPS-III) پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ جب کہ 220 kV والے KDA-Jamshoro سرکٹ کی مطلوبہ مرمت مکمل کرنے کے ساتھ کراس ٹرپ اسکیم پر عملدآمد بھی کیا گیا جس کی بدولت کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 450 سے 600 میگاواٹ اضافی بجلی حاصل کرسکی اور اس نے 2021 کے موسم گرما میں بجلی کی اضافی ضرورت کو احسن طریقے سے پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مزید برآں kV 500 کے KKI اور 220 kV کے دھابیجی گرڈ پراجیکٹس پر بھی کام شروع کردیا گیا ہے جس کی بدولت کمپنی نیشنل گرڈ سے 2,050 میگا واٹ اضافی بجلی حاصل کر سکے گی اور اپنے سروس ایریا کی بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات کو پورا کرسکے گی۔
کے الیکٹرک نے اپنے نیٹ ورک میں موجود اب تک 11,000 اور پی ایم ٹیز کو ائیریل بنڈل کیبلز (ABC) میں تبدیل کردیا ہے۔ اس اقدام کی بدولت کمپنی کو اپنے ترسیلی و تقسیمی نقصانات کو کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے اور صارفین کو اس کا فائدہ لوڈشیڈنگ میں کمی کی صورت میں پہنچایا گیا۔ اس کے ساتھ صارفین کے فلاح و بہبود کے اقدامات بھی کیے گئے۔
ان اقدامات کی بدولت مالی سال 2021 میں 125,000 صارفین کو کنڈہ کنکشن سے میٹر کنکشن پر منتقل کیا گیا ہے۔ جب کہ مالی سال 2020 میں 45,000 صارفین کو قانونی کنکشن پر منتقل کیا گیا تھا۔
کے الیکٹرک نے مالی سال 2021 کے دوران KHI ایوارڈز کا پہلا ایڈیشن بھی منعقد کیا، جس کے تحت کمپنی نے شہر کی بہتری کے لیے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل 30 اداروں کی معاونت کی۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں معروف ادارے انڈس ہسپتال، ہنر فاؤنڈیشن و دیگر شامل تھے۔ فاتح اداروں کے اثاثوں کی کُل مالیت 54 ارب روپے ہے۔
اپنی وسعتی حکمت عملی کے تحت کے ای وینچر پرائیوٹ لمیٹڈ کے ماتحت کے سولر پرائیویٹ لمیٹڈ کا اجرا کیا گیا، جس نے جون 2021 سے اپنے آپریشنز کا آغاز کرد یا ہے۔ کے سولر رہائشی، تجارتی اور صنعتی صارفین کو اورقابل اعتماد شمسی توانائی فراہم کرے گی۔
کسٹمر سینٹرسیٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم کے الیکٹرک نے بزرگ شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے 118 کال سینٹر پر مکمل سروسز کا آغاذبھی کردیا ہے۔ مزید برآں کے الیکٹرک نے کراچی اور اس کے ملحقہ رہائشی علاقوں کے صارفین کے لیے واٹس اَیپ سروس بھی متعارف کروائی ہے تاکہ وہ اپنی تکنیکی اور بلوں سے متعلق شکایات درج کروانے کے ساتھ ساتھ ڈپلیکیٹ بل، انکم ٹیکس سرٹیفکیٹس حاصل کرسکیں اور نئے کنکشن کے فارم اور اس کے لیے درکار دستاویزات کی تفصیلات بھی ڈاؤن لوڈ کرسکیں۔
کے الیکٹرک انتظامیہ نے آئندہ دو سال میں تقریباََ ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا بھی عہد کیا ہے تاکہ صارفین کو محفوظ اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔
تاہم اس طرح کی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے نیپرا کی بروقت منظوری درکار ہوگی اور اس مد میں کے الیکٹرک کے حکومتی اداروں اور ڈیپارٹمنٹس پر واجب الادا رقوم کی وصولی بھی نہایت اہم ہے۔