
کراچی: مارٹن ڈاؤ مارکر (لمیٹڈ) کی جانب سے مقامی ہوٹل میں‘PREDIABETES – Train the Trainer’ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے۔
Prediabetes Train the Trainer ایک آگاہی پروگرام ہے جس کا مقصد ذیابیطس کے مرض سے بچاؤ کا شعور بیدار کرنا تھا اور یہ وہ اقدم ہے جس کے ذریعے ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔
اس سیمینار کاانعقاد مارٹن ڈاؤ مارکر لمیٹڈ کی جانب سے کیا گیا، جوکہ ذیابیطس کے حوالے سے وسیع مہارت رکھنے والی صف اوّل کی ادویات بنانے والی کمپنی ہے۔
Prediabetes کے مرحلوں کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو آگاہی اور مہارت فراہم کی جائے جس کے ذریعے بیماری کے لاحق ہونے سے پہلے اس کی تشخیص کی جاسکے۔
بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق، پاکستان ذیابیطس کے سب سے زیادہ پھیلاؤ والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ہر چوتھا شخص ذیابیطس کا مریض ہے اور ہر چھٹے شخص کو ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔
اس تقریب کا مقصد ڈاکٹروں میں ذیابیطس لاحق ہونے سے پہلے کے مرحلے کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تھا جوکہ بہت اہم ہے کیونکہ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اگلے 5-10 سالوں میں کون سے شخص کا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا امیدوار ہے۔ پری ذیابیطس مرحلے پر ٹیسٹ اور علاج کے ذریعے پاکستان میں ذیابیطس کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اگر مریض اپنے طرز زندگی کو تبدیل کریں اور اپنے ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق ضروری اقدامات کریں تو ذیابیطس کے مرض لاحق ہونے کے عمل کو روکا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ملک گیر سطح کا پروگرام ہے جس کی شروعات کراچی سے ہوئی ہے۔
اس کا مقصد پاکستان میں ذیابیطس کی سطح میں کمی لانا اور پری ذیابیطس مرحلے کے حوالے سے آگاہی اور رہنمائی فراہم کرنا ہے کہ کیسے ذیابیطس کے لاحق ہونے سے بچا جاسکتا ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف کمرشل آفیسر مارٹن ڈاؤ مارکر(لمیٹڈ) نعمان لطیف کا کہنا تھا کہ‘ورزش اور خوراک پر مرکوز طرز زندگی کی کمی ہمارے لوگوں میں ذیابیطس کی سطح کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ Prediabetes کے ابتدائی مرحلہ پر قابو پایا جاسکتا ہے اگر شروعات میں ہی کی تشخیص ہوجائے۔ پاکستان میں میں مرغن غذاؤں کا وافر مقدار میں استعمال کرنے والا طرز زندگی بھی ذیابیطس کی سطح کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔’
نعمان لطیف کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لوگ ان عوامل سے لاعلم ہیں جو پری ذیابیطس کا باعث بنتے ہیں جیسا کہ وہ لوگ جو موٹاپے کا شکار ہیں اور زیادہ وزن کے باعث ذیابیطس کی حوالے سے خاندانی ماضی بھی رکھتے ہیں یا وہ خواتین ہیں جن کی Gestational diabetes mellitus کا ماضی ہے ان میں پری ذیابیطس تشخیص ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
بحثیت قوم ہم صحت کو ترجیح نہیں دیتے جبکہ پری ذیابیطس کے مرحلے میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ پری ذیابیطس کے مریضوں میں امراض قلب سے متعلق پیچیدگیاں پیدا ہونے کے 10 فیصد سے 40 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔
پری ذیابیطس مرحلے کی نشاندہی اسکریننگ ٹیسٹ کے ذریعے کی جاسکتی ہے اور لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ باقاعدگی سے اسکریننگ کروائی جائے۔
اس سیمینار کے دوران شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین کی بڑی تعداد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جو لوگ پری ذیابیطس حدود میں آتے ہیں انہیں باقاعدگی سے ڈاکٹروں کے مشورے سے تمام ضروری اقدامات کرنا چاہئے تاکہ خود کو بچایا جاسکے، کیونکہ عام تاثر ہے کہ ‘احتیاط علاج سے بہتر ہے’