
کوئٹہ: وفاقی حکومت اور سانحہ مچھ میں شہید ہونے والے شہداء کے لواحقین سے مذاکرات کامیاب ہوگئےہیں جبکہ شہداء لواحقین کی مزاکراتی کمیٹی نے دھرنا بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
مزاکرات سے کامیابی کے بعد شہداء کے ورثا ء نے تدفین کی اجازت دے دی۔ وزیر اعلی جام کمال کی سربراہی میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم جس میں وفاقی وزیر علی زیدی، زلفی بخاری اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کوئٹہ میں دھرنے کے مقام پر ورثاء اور شہداء کمیٹی سے مذاکرات کیے
وفاقی وزیر علی زیدی نے شہداء کے لواحقین کو یقین دلایا کہ واقعہ میں بیرونی شازش کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے گا جبکہ اپنی وزارت سے شہداء کے لواحقین کے لیے اسکالرشپ کا بھی اعلان کیا اور مزاکرات میں کامیابی میں زلفی بخاری کے قلیدی کردار کی تعریف بھی کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے شرکاء سے دھرنا ختم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اعلان کیا کہ کچھ خیر میں وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر باجواہ کے علاوہ وزیر داخلہ شیخ رشید دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے لیے پہنچنے والے ہیں۔
بعدازاں شہداء کے ورثاء نے میتوں کی تدفین کی اجازت دے دی۔جس کے بعد میتں منتقل کرنے کا عمل شروع کردیس گیا۔
واضح رہے کہ سانحہ مچھ کے تمام شہداء کی نماز جنازہ اور تدفین ہفتہ کی صبح 10 بجے کی جائے گی۔