
کراچی: سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی والدہ دبئی میں انتقال کر گئیں۔ ذرائع کے مطابق سابق صدر ،سابق چیف آف آرمی اسٹاف اور پاکستان مسلم لیگ کے بانی پرویز مشرف کی والدہ زرین مشرف انتقال کرگئیں۔
سابق صدر کی والدہ زرین مشرف کی عمر تقریباً 100 سال تھی اور کافی عرصے سے زیر علاج تھیں، انکا انتقال دبئی کے اسپتال میں ہوا۔ جبکہ ان کی نمازِ جنازہ دبئی میں ہونے کا امکان ہے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کی والدہ کی طبیعت کافی دنوں سے خراب تھی اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
پرویز مشرف کی والدہ 1920 میں ہندوستان کے شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئیں، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لکھنؤ سے ہی مکمل کی، بعد ازاں مزید تعلیم کے حصول کے لیے دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے انگریزی لٹریچر میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔
زرین مشرف کی دہلی کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے سید مشرف سے کم عمری میں شادی ہوگئی تھی، اُن کے والد برٹش انڈین حکومت کے دور میں وزارت خارجہ کے دفتر میں بطور اکاؤنٹینٹ ملازمت کرتے تھے۔
شادی کے بعد زرین مشرف کے ہاں تین بیٹوں کی پیدائش ہوئی، جن میں سے سب سے بڑے جاوید مشرف ہیں جن کا تعلق مصر ہے جبکہ دوسرے نمبر پر پرویز مشرف اور تیسرے بیٹے نوید مشرف ہیں جو امریکا میں مقیم ہیں۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی والدہ محترمہ کی وفات پر پاکستان کی سیاسی مذہبی اور سماجی شخصیات نے اظہار افسوس کیا ہے اور ان کی بخشش کے لیے دعائیں بھی کی ہیں۔