تازہ ترینرجحانصحت

سندھ بھر میں 13 جعلی ادویات کمپنیوں کے ناموں سے فروخت ہونے کا انکشاف

شیئر کریں

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا انکشاف:

سندھ کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے یہ بات سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور پورے صوبے میں

13 مختلف جعلی ادویات مختلف کمپنیوں کے ناموں سے فروخت کی جارہی ہیں۔

جعلی ادویات کی جانچ کا عمل:

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر عدنان رضوی نے وضاحت کی کہ گزشتہ دو مہینوں کے دوران

300 سے زائد ادویات کے نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں سے 13 ادویات کے نمونے جعلی نکلے۔

یہ جعلی ادویات اصل کمپنیوں کے برانڈ نام سے بیچی جا رہی تھیں۔

کمپنیوں کا عدم وجود:

تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی ان جعلی ادویات کے پیچھے موجود کمپنیوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔

جعلی ادویات کی تفصیلات:

عدنان رضوی نے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا کہ

7 مختلف فارما کمپنیوں کے نام سے جعلی ادویات مارکیٹ میں فروخت کی جا رہی ہیں۔

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو کراچی اور اندرون سندھ سے جعلی ادویات کی کئی شکایات موصول ہوئی تھیں،

جس کے بعد ڈرگ انسپکٹروں نے قانون کے تحت کارروائی کی اور مختلف ادویات کے سمپل اکٹھے کیے۔

آئیوڈیکس کا معاملہ:

ایک خاص کیس میں، جسم کی درد کے لئے استعمال ہونے والی آئیوڈیکس کی جانچ کی گئی،

جس میں یہ پتہ چلا کہ ادویات میں وہ فعال اجزا شامل نہیں تھے جو عموماً درد کی حالت میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

کمپنیوں سے رابطہ:

عدنان رضوی نے بتایا کہ ڈرگ انسپکٹروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ کمپنیوں کے پتے پر رابطہ کریں۔

ان کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ یہ کمپنیاں حقیقی طور پر وہاں موجود نہیں تھیں۔

جب آئیوڈیکس تیار کرنے والی کمپنی سے بات کی گئی تو انہوں نے یہ بتایا کہ

آئیوڈیکس کی تیاری 2017 کے بعد بند ہو چکی ہے جبکہ ادویات پر 2024 کی تیاری کی تاریخ درج تھی۔

جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن:

مزید یہ کہ دیگر 13 ادویات کے بیج نمبر، لائنس نمبر، اور کمپنی کے پتے بھی غلط تھے،

جس کے نتیجے میں سندھ کے تمام ڈرگ انسپکٹروں کو جعلی ادویات کے خلاف سختی سے کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے اس معاملے پر تمام ڈرگ انسپکٹروں کو مارکیٹ میں

فروخت ہونے والی ادویات کی سخت نگرانی کرنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ڈے نیوز کو گوگل نیوز، انسٹاگرام، یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر فالو کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button