تازہ ترینرجحانصحت

دواؤں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ،عوام پریشان

شیئر کریں

ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، عوام بنیادی علاج سے محروم!

ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

مہنگی دواؤں نے مریضوں کے لیے علاج کو ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔

چار ماہ میں 35 فیصد تک اضافہ:

سروے کے مطابق،

گزشتہ چار ماہ کے دوران متعدد ادویات کی قیمتوں میں 8 سے 35 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے،

جو عام صارفین کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

اہم ادویات کی نئی قیمتیں:

کئی عام استعمال کی ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے:

– کورٹسپورن آئی آئنٹمنٹ: 48 → 65 روپے
– کیفلیم ٹیبلٹس: 337 → 371 روپے
– گالووس میٹ: 3,100 → 3,410 روپے
– میتھائیکوبال: 250 → 300 روپے
– سربیکس زی: 370 → 440 روپے
– سنی ڈی کیپسول: 375 → 450 روپے
– لیرائس ڈی: 550 → 664 روپے
– ٹرکارڈن: 995 → 1,400 روپے
– سیپروکسِن: 550 → 708 روپے
– پینادول ایکسٹرا: 40 → 50 روپے
– پرنو انجیکشنز: 2,700 → 3,352 روپے

تاجر برادری اور فارمیسی مالکان کا ردعمل:

دوا فروشوں کا کہنا ہے کہ مہنگی ہونے والی یہ ادویات

– بخار
– دل
– آنکھوں
– کمزوری
اور انفیکشن جیسے عام امراض کے لیے ضروری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عام مریض اب مکمل کور لینے کے بجائے کم گولیاں خریدنے پر مجبور ہیں۔

ایک میڈیکل اسٹور کے مالک نے بتایا:

لوگ 30 ٹیبلٹس کے بجائے 15 یا 20 لے رہے ہیں، اور ہم سے رعایت مانگتے ہیں جو ممکن نہیں۔

ڈاکٹروں کی بھی تشویش:

ڈاکٹر اکرام شاہ نے تصدیق کی کہ بہت سے مریض مالی مجبوریوں کے باعث کم ادویات تجویز کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ:

ملک میں صحت کا بیمہ نظام نہ ہونے سے عوام اپنی جیب سے ادائیگی پر مجبور ہیں، جو غریب طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔

پالیسی کا پس منظر:

فروری 2024 میں نگران حکومت نے "ڈیریگولیشن پالیسی” کے تحت غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کا کنٹرول کمپنیوں کو دے دیا تھا۔

اس کا مقصد دواساز صنعت کو مالی طور پر مستحکم کرنا تھا، لیکن اس کا اثر عام مریض پر پڑا۔

قانون سازوں کی تشویش: کارٹیل سازی اور منافع خوری:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات نے دوا ساز کمپنیوں کی من مانی قیمتوں پر شدید اعتراض کیا ہے۔

چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین کا کہنا تھا:

"کارٹل سازی کی وجہ سے بے تحاشہ منافع خوری ہو رہی ہے، جو عوامی صحت کے لیے خطرناک ہے۔”

نتیجہ: مہنگی دوا، تکلیف دہ زندگی:

ملک میں ادویات کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ نہ صرف مریضوں بلکہ فارمیسی مالکان، ڈاکٹروں اور

خود دواساز صنعت کے لیے بھی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔

فوری اصلاحات اور صحت کے قومی نظام کی بہتری کے بغیر حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ڈے نیوز کو گوگل نیوز، انسٹاگرام، یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر فالو کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button