
ملک بھر میں دریاؤں میں شدید سیلابی صورتحال!
این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری:
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تحت نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک میں ممکنہ شدید سیلاب کے پیش نظر ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
دریائے چناب میں خطرناک حد تک پانی کی سطح بلند:
این ای او سی کے مطابق دریائے چناب میں قادری آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 901,000 کیوبک فٹ فی سیکنڈ جبکہ خانکی پر 859,000 کیوبک فٹ فی سیکنڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سیلابی ریلہ ٹرمو کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے گجرات
حافظ آباد
سرگودھا
پنڈی بھٹیاں
منڈی بہاؤالدین
چنیوٹ
اور جھنگ کے اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔
دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح تشویشناک حد تک بلند:
دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 139,000 کیوبک فٹ فی سیکنڈ ہے،
جو شاہدرہ پہنچ کر 164,160 کیوبک فٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس سے
لاہور
نارووال
شیخوپورہ
اور ننگانہ صاحب کے نچلے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ستلج دریا میں بھی شدید سیلاب، کئی اضلاع خطرے کی زد میں:
دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 261,000 کیوبک فٹ فی سیکنڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سلیمنکی کے مقام پر بھی بہاؤ بڑھ کر 109,000 کیوبک فٹ تک پہنچ چکا ہے۔
اس صورتحال سے
قصور
اوکاڑہ
پاکپتن
بہاولنگر
اور وہاڑی کے علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔
شہری علاقوں میں بھی خطرہ، حفاظتی اقدامات کی ہدایت:
لاہور کے علاقے
کوٹ مندو
عزیز کالونی
قیصر ٹاؤن
فیصل پارک
ڈھیرا
کوٹ بیگم
اور ضیا موسیٰ کو سیلابی خطرے کے پیش نظر الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات کی طرف فوری نقل مکانی کریں۔
این ڈی ایم اے کا ریسکیو آپریشن جاری، فوجی و سول اداروں سے رابطہ برقرار:
وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی نگرانی تیز کر دی ہے۔
این ای او سی چوبیس گھنٹے فعال ہے اور تمام اداروں سے رابطے میں ہے تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت:
این ڈی ایم اے نے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ایمرجنسی کٹ میں پانی، خوراک، ادویات اور ضروری دستاویزات تیار رکھیں۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ: مزید بارشوں کی پیشگوئی:
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ 29 اگست سے بالائی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا، جس کی شدت 30 اگست سے بڑھ سکتی ہے۔
ان بارشوں سے دریاؤں میں مزید سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
بھارتی ڈیموں سے پانی کا اخراج، ستلج میں صورتحال مزید خراب:
چیف میٹالوجسٹ ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے کہا ہے کہ بھارت کے ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے
سبب دریائے ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے۔
گنڈا سنگھ والا اور اس سے نچلے علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
اگلے چند دن اہم، مزید علاقوں کو سیلاب کا سامنا:
دریائے چناب کا مقام ٹرمو 29 اگست کی شام کو شدید سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
پنجند کے مقام پر 2 ستمبر کو بہت زیادہ سیلاب کا امکان ہے۔
دریائے سندھ پر گوڈو اور سکھر کے مقامات پر 4 اور 5 ستمبر کو پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔
دریائے راوی پر بالوکی میں آئندہ 24 گھنٹوں میں خطرناک حد تک پانی بڑھنے کی پیشگوئی ہے۔



