بزنستازہ ترینرجحان

31 اگست تک تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر راست کیو آر کوڈ آویزاں کرنا لازمی قرار

شیئر کریں

حکومت کی کیش لیس معیشت کی جانب اہم پیش رفت!

31 اگست 2025 تک کاروباری مراکز کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے راہ ہموار کرنے کی ہدایت:

وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کے سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ اپنے علاقوں میں

موجود تجارتی مراکز کو 31 اگست 2025 تک ”راست کیو آر کوڈز“ حاصل کرنے اور نمایاں طور پر آویزاں

کرنے کا عمل یقینی بنائیں، تاکہ ملک میں کیش لیس معیشت کے نفاذ کو تیز کیا جا سکے۔

اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں ریٹیل اور کمرشل مراکز پر ڈیجیٹل ادائیگی کی
سہولیات،
جیسے کہ
راست کیو آر کوڈ
پی او ایس
اور سافٹ پی او ایس کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی ترتیب دی ہے۔

اس سلسلے میں، اسٹیٹ بینک نے تمام چیف سیکریٹریز، ریگولیٹری اداروں اور متعلقہ محکموں

سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود تمام کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے کا پابند بنائیں۔

مؤثر نفاذ کے لیے مختلف محکموں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت کے پیش نظر،

وزیراعظم آفس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس عمل میں فعال کردار ادا کرے۔

وزیراعظم آفس نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ درج ذیل اقدامات ترجیحی بنیادوں پر انجام دیں:

1. تمام متعلقہ محکمے اور فیلڈ دفاتر اپنی حدود میں موجود کاروباری مراکز کو 31 اگست 2025 تک راست کیو آر کوڈز حاصل کرنے اور آویزاں کرنے کی ہدایت دیں۔

2. تجارتی لائسنس کے اجراء اور تجدید کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔

3. ایسے کاروباری مراکز کے خلاف جرمانے اور دیگر تعزیری کارروائیاں نافذ کی جائیں جو ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے سے انکار کریں۔

4. اسٹیٹ بینک اور اس کے ماتحت اداروں بشمول بینکس، موبائل پیمنٹ آپریٹرز، اور الیکٹرانک منی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے تاکہ ڈیجیٹل نیٹ ورک کو وسیع کیا جا سکے۔

اس ضمن میں، وزیراعظم آفس نے ڈاکٹر شازیہ غنی کو فوکل پرسن مقرر کیا ہے تاکہ نگرانی اور

عمل درآمد میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ تمام وزارتیں اور متعلقہ ادارے ڈاکٹر غنی سے رابطہ

رکھیں تاکہ بروقت نفاذ اور مسائل کے حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ،

وزارتِ خزانہ ایک کیش لیس نظام تیار کر رہی ہے تاکہ عوام سے متعلق ادائیگیاں (جی ٹو پی) اور حکومت

سے عوام (پی ٹو جی) کے معاملات کو شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے ذیلی کمیٹی کی تجویز کردہ نئی حدف میں شامل ہیں:

– فعال ڈیجیٹل کامرس پوائنٹس (کیو آر کوڈز) کی تعداد موجودہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کریں۔

– کم از کم ایک ڈیجیٹل ٹرانزیکشن فی مرچنٹ ماہانہ لازمی قرار دی جائے۔

– موبائل اور انٹرنیٹ ایپ اور ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد مالی سال 2026 تک 9.5 کروڑ سے بڑھا کر 12 کروڑ کی جائے۔

– ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد 7.5 ارب سے دوگنی کرکے 15 ارب تک لے جائے۔

– ترسیلات زر کو مکمل طور پر بینک اکاؤنٹس اور والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کا ہدف 80 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کیا جائے۔

تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ڈے نیوز کو گوگل نیوز، انسٹاگرام، یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک پر فالو کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button