
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ریلوے ترقیاتی منصوبہ بندی اور اداروں کی اصلاحات پر غور:
وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب نے ریلوے کے ٹریکس کی
اپگریڈیشن اور ڈوئلائزیشن کے لیے 350 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے جمعہ کو رائے حسن نواز خان کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے پاکستان ریلوے کے اجلاس میں یہ معلومات فراہم کیں۔
حنیف عباسی کے مطابق،
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی صوبے میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے
ریلوے کنسٹرکشن کمپنی
پاکستان ریلوے ایڈوائزری
اور کنسلٹنسی سروسز
اور پاکستان ریلوے فریٹ اینڈ ٹرانسپورٹ کمپنی کے خاتمے کی وجوہات پر بھی سوالات اٹھائے۔
جواب میں وزیر نے بتایا کہ پاکستان ریلوے حکومتی پالیسی کے تحت رائٹ سائزنگ اختیار کر چکی ہے اور
ان اداروں کی خدمات اب ضرورت نہیں رہی، اس لیے ان کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے ہدایت دی کہ ان اداروں کے تجربہ کار ملازمین کو پاکستان ریلوے میں شامل کیا جائے۔
اس کے علاوہ،
کمیٹی نے انکشاف کیا کہ تقریباً 47 افسران بیرون ملک مقیم ہیں لیکن تنخواہیں اور مراعات
پاکستان ریلوے سے وصول کر رہے ہیں، جس پر وزیر ریلوے نے بتایا کہ ان کے کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
مزید برآں، کمیٹی نے نوشہرہ کلاں میں دریائے کابل پر واقع ریلوے پل کی مرمت اور بحالی کا بھی حکم دیا۔
ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ کراچی ڈویژن کے موجودہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ اور سی ای او
سے متعلق آڈیو لیکس کی انکوائری رپورٹس کا جائزہ لے سکے۔ اس ذیلی کمیٹی کے سربراہ
رکنِ قومی اسمبلی شفق عباس ہوں گے، اور دیگر ارکان میں ابرار احمد، صادق علی میمن،
اور سید وسیم حسین شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اپنی رپورٹ 30 دن کے اندر مرکزی کمیٹی کو پیش کرے گی۔
اس دوران، کمیٹی نے کمشنر ڈیرہ غازی خان کی جانب سے مظفرگڑھ کے موضع سوناکی کی زمین
سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ کو رد کر دیا اور اس پر اتفاق رائے نہیں پایا۔