بزنستازہ ترینرجحان

کے الیکٹرک کا 900 میگاواٹ پاور پلانٹ صنعتی ترقی اور بندرگاہ کی سرگرمی بڑھائے گا، علی زیدی

شیئر کریں

کراچی: وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے پیر کے روز کے الیکٹرک کے بن قاسم پاور اسٹیشن 3 (BQPS-III) کا دورہ کیا۔

تقریبا 650 ملین امریکی ڈالر کی تخمینہ لاگت سے تعمیر ہونے والے BQPS III منصوبے پر پیش رفت سے آگاہی حاصل کی۔ یہ منصوبہ کراچی کی بجلی کی پیداوار میں 900 میگاواٹ اضافہ کرے گا۔

دورے کے دوران ہونے والے اجلاس میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) سید حسن ناصر شاہ HI (M)، اور بن قاسم ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (BQATI) کے صنعتی برادری کے ارکان نے بھی شرکت کی۔

وزیر اور کے ای کے اعلی حکام نے پورٹ قاسم میں موجود صنعتوں کے حال کا جائزہ لیا، صنعتی صارفین کو دی جانے والی موجودہ سہولیات اور علاقے میں مستقبل کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹ کے مطابق، کے الیکٹرک کے سروس ایریا میں بجلی کی طلب %5 سے زائد شرح تک بڑھنے کا امکان ہے اور آنے والے دو سالوں میں 700 میگاواٹ کے نئے کنیکشنز لگنے کی توقع ہے جس میں سے آدھے کنیکشنز صنعتی صارفین کی جانب سے آنے کا امکان ہے۔

دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا، "کے ای کی جانب سے کراچی کی بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر ٹھوس اقدامات دیکھ کر خوشی ہوئی۔

یہ بات بھی باعث اطمینان ہے کہ یہ پلانٹ RLNG پر چلے گا جو کہ ماحول دوست گیس ہے اور اس سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا نے کے ساتھ ساتھ ہماری بندرگاہوں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کرے گی۔”

تکمیل کے بعد، BQPS-III اپنی نوعیت کے موثر ترین منصوبوں میں سے ایک ہوگا، جس کی تکمیل کا کام دسمبر 2019 سے تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے کو جلد از جلد آن لائن لانے کے لیے اب تک قریبا 4 ملین سے زائد گھنٹے لگائے جا چکے ہیں۔

اس کی تکمیل کا کام جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے یوٹیلٹی سرگرم عمل ہے تاکہ کراچی کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا کیا جاسکے۔ توقع ہے کہ 450 میگاواٹ کا پہلا یونٹ مالی سال 2022 کی دوسرے سہ ماہ کے اندر فعال ہوجائے گا اور دوسرا یونٹ بھی جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا۔

BQPS-III جدید ترین ٹکنالوجی سے لیس ہے اور تکمیل کے بعد ملک کے 5 اعلی ترین پلانٹس کی فہرست میں شامل ہوجائےگا۔ اس سال اگست میں کے الیکٹرک نے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت بن قاسم کمپلیکس کے منصوبے کے کو 150 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی کی فراہم کی جاسکے گی۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہے کہ کسی سرکاری ادارے نے کسی نجی کمپنی کے ساتھ جی ایس اے پر دستخط کیے ہیں۔ معائدے کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی، جس میں وزیر توانائی حماد اظہر اور وزیر اعظم کے مشیر برائے توانائی تابش گوہر نے بھی شرکت کی تھی۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے الیکٹرک مونس علوی نے کہا کہ پلانٹ میں معزز وزیر کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے۔ انہیں منصوبے پر جاری کام اور اس سلسلے میں ہمارے لیے گئے اقدامات کو دیکھنے کا موقع فراہم کرکے ہمیں فخر محسوس ہورہا ہے۔

ہم وزارت توانائی، نیپرا اور وفاقی حکومت کے متعلقہ محکموں کو تعاون پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم اس منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے میں کامیاب رہے۔

کے الیکٹرک نے نجکاری کے بعد سے اب تک اپنے پاور ویلیو چین میں قریبا 410 بلین روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس کے ساتح ساتھ اپنے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

اس نے دیگر آپریشنل بہتری لانے کے ساتھ کمپنی کو اس قابل بنایا ہے کہ آج اس نے اپنے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی گنجائش کو دوگنا کر لیا ہے اور مالی سال 21 کے اختتام پر line T&D کے نقصانات کو تقریبا 17 17.5 فیصد تک لے آیا ہے۔

900 میگاواٹ کے BQPS III پلانٹ بنانے کے ساتھ ساتھ، کے الیکٹرک وفاقی حکومت اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی حاصل کرنے کے لیے گرڈ اور انٹر کنکشن بنانے کے لیے نیپرا کی رہنمائی میں کام کر رہی ہے جو کہ کراچی کی صنعتی اور معاشی ترقی میں مزید معاونت کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button