
نئی آنکھوں کی دوا سے عمر رسیدہ افراد کی نظر کی کمزوری میں آسانی کا امکان!
امریکہ میں صحت کے حکام نے عمر رسیدہ افراد کے لیے نظر کی کمزوری کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کی منظوری دے دی ہے۔
اس نئے علاج کے تحت آنکھوں کے لیے مخصوص قطروں کا استعمال کیا جائے گا،
جنہیں ’ویز‘ (ایسکلائیڈین آپتھلمک سولوشن) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دوا خاص طور پر ’پریسبیوپیا‘ یعنی
عمر بڑھنے کے ساتھ قریب کی اشیاء دیکھنے میں دشواری کی بیماری کے علاج کے لیے تیار کی گئی ہے۔
یہ پہلی اور واحد آنکھوں کی دوا ہے جس میں ’ایسکلائیڈین‘ نامی جز شامل ہے۔
اس کے استعمال سے آنکھ کے مرکز میں موجود پپوٹ (پیوپل) کو ہلکا سا سکڑنے میں مدد ملتی ہے،
جس سے قریب کی اشیاء پر توجہ مرکوز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ قطریں نظر کو دھندلا کیے بغیر واضح دیکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں،
اور زائد العمر افراد کے لیے آسانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ آزمائش کے دوران یہ دوا دن میں ایک بار
استعمال کرنے سے 30 منٹ کے اندر قریب کی نظر بہتر ہوتی دیکھی گئی،
اور اس کا اثر تقریباً 10 گھنٹے تک برقرار رہتا ہے۔ یہ تجربات 40 سال سے زائد عمر کے افراد پر کیے گئے،
جن میں یہ ثابت ہوا کہ یہ دوا نہ صرف مؤثر ہے بلکہ اس کے منفی اثرات بھی کم ہیں۔
حتیٰ کہ 30,000 سے زیادہ دنوں تک اس کے استعمال سے کسی سنگین مضر اثرات کی اطلاع نہیں ملی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس دوا کے استعمال سے
ہلکی جلن
آنکھوں کا سرخ ہونا
سر درد
اور نظر دھندلی ہونے جیسے کچھ معمولی اثرات دیکھنے میں آئے، مگر یہ اثرات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دوا آنکھوں کے لیے ایک نیا اور مؤثر حل ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر
ان لوگوں کے لیے جنہیں چشمے یا کانٹیکٹ لینسز استعمال کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
امریکی ادارے نے اس دوا کو منظوری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسے 2025 کے آخر تک امریکہ میں
مارکیٹ میں لایا جائے گا، تاہم دیگر ممالک میں اسے پیش کرنے میں کچھ مزید وقت لگ سکتا ہے۔
اس پیش رفت سے زائد العمر افراد کی نظر کی کمزوری سے بچاؤ میں اہم مدد مل سکتی ہے۔



