
رات کی شفٹ: صحت کے لیے خدانخواستہ خطرناک اثرات!
نائٹ شفٹ پر کام کرنے والے افراد کے لیے صحت کے خطرات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
ماہرین صحت بارہا خبردار کرتے آئے ہیں کہ رات کی کام کی معمولات مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ مستقل رات کی ڈیوٹی ذہنی دباؤ
بے چینی
اور افسردگی کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ،
نیند کے دوران خلل پیدا ہونے سے یادداشت، توجہ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
رات بھر جاگنے سے اہم ہارمونز جیسے میلاٹونن، انسولین اور کورٹیسول کا توازن بھی بگڑتا ہے،
جو کہ ذیابیطس، موٹاپا اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔
جسم کے قدرتی نظام میں خرابی کے باعث ہاضمہ، قوتِ مدافعت اور خون کی گردش بھی متاثر ہوتی ہے۔
طویل مدت تک رات کی شفٹ کرنے والے افراد کی جسمانی صحت کمزور ہو سکتی ہے،
اور یہ دل کے دورے یا اسٹروک کے خطرات کو بھی بڑھا دیتے ہیں۔
مزید برآں، کئی افراد کو دن کے وقت پوری نیند نہ آنے کی وجہ سے مزاج میں
چڑچڑاپن
جسمانی تھکاوٹ
اور کام میں کمی کا سامنا ہوتا ہے۔
ایسے حالات سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ دن کے دوران پرسکون اور گہری نیند حاصل کی جائے۔
نائٹ شفٹ پر کام کرنے والوں کو کیفین اور زیادہ شوگر سے پرہیز کرنا چاہیے،
اور شیڈول کو روٹین میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ صحت مند طرزِ زندگی کے لیے
سبزیاں
پھل،
دالیں
اور پانی کا استعمال بڑھانا بھی اہم ہے۔
اس کے علاوہ،
وقتاً فوقتاً طبی معائنہ بھی کروانا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صحت کے مسئلے سے بروقت بچا جا سکے۔



