تازہ ترینرجحانسائنس
Trending

کراچی کے فضائی معیار کی بہتری کے لیے دو طرفہ کوششوں کی ضرورت ہے، مرتضی وہاب

کراچی کے مقامی ہوٹل میں شہر کے فضائی ماحول پر سیپا نے سیمینار کا انعقاد کیا

شیئر کریں

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے فضائی آلودگی سے متعلق منعقدہ سیمینار میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے فضائی ماحول میں بہتری لانے کے لیے دو طرفہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

یعنی ایک طرف تو ماحولیاتی قوانین کا نفاذ موثر بنایا جائے اور دوسری جانب عوام اپنے طرز زندگی میں ماحول دوستی لاتے ہوئے فضائی ماحل کی حفاظت کریں۔

سیمینار کے انعقاد ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ اور محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی نے کیا تھا جس میں ماحولیات سے متعلق مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ماہرین ماحولیات نے کراچی کے فضائی معیار کی گراوٹ سے ہونے والے طبی، سماجی، قانونی اور اقتصادی پہلووں پر سیر حاصل بحث کی۔

مرتضی وہاب نے اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں مزید کہا کہ میں ماحولیاتی ماہر نہیں ہوں لہذا ماحولیات کے سیاسی محرکات پر بات کروں گا۔

جب مجھے محکمہ ماحولیات کا قلمدان ملا تو ایسا لگا کہ مجھے سزا دی جارہی ہے مگر پارٹی قیادت اور وزیر اعلی نے مجھے اعتماد دیا اور میں نے کوشش کی اب ادارے کاحال کافی بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کے ادارے کو ماضی میں اہمیت نہیں دی گئی تھی تاہم صوبائی سطح پر موثر قانون سازی کے بعد یہ ادارہ اپنا فعال کردار موثر طریقے سے ادا کررہا ہے۔

انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ اب ہم بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں باتیں زیادہ کی جاتی ہیں مگر کام کم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیات وہ کام ہے جس میں ہم آسانی سے بہتری لاسکتے ہیں۔ ہمیں اجتماعی سوچ کی طرف آنا پڑے گا۔ ہم اپنا گھر صاف کرتے ہیں محلے اورشہر کے بارے میں نہیں سوچتے۔

ماحولیات تو پورے ملک، معاشرے اور دنیا کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں ماحولیات کی بہتری کی کوشش شروع ہو چکی ہے اور اب کراچی کی صورتحال کافی بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیپا نے جب اپنا کام شروع کیا تو کافی لوگوں کو تکلیف ہوگی۔اگر ہم ماضی کی طرح ماحولیاتی قوانین کے نفاذ میں تھوڑی گنجائش نکالنے لگیں تو ماحول خراب ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیات سے متعلق ایکشن پلان ہونا چاہیئے کیونکہ جس ایکشن پلان سے عمل کی بجائے محض ردعمل ہو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مشیر ماحولیات نے کہا کہ جب واٹرکمیشن بنا تو ماحولیاتی بہتری کی لیے دی جانے والی کمیشن کی ہدایات پر محکموں نے عملدرآمد شروع کیا مگر عملی سوچ ندارد تھی۔

آر او پلانٹ بند کروا دیئے گئے تاہم وہ یکسر بند ہوگئے اور آخر میں ان کو کلین چٹ بھی دے دی گئی واٹر کمیشن نے 2014 سے لے کر 2016 میں طے کیا کہ جو فیکٹری بنے گی وہ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گی۔

مگر پرانی فیکٹریوں کا کہنا ہے کہ ان کے احاطے میں مزید کسی تنصیب کی گنجائش ہی نہیں، ایسے میں حکومت سندھ مشترکہ ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کے لیے ابتدائی فنڈز منظور کر چکی ہے، اب صنعتوں پر منحصر ہے کہ وہ صنعتی پانی صاف کرنے کے ان مشترکہ منصوبوں سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں جب بھی اسلام آباد ایئر پورٹ اترتا ہوں تو ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنتی نظر آتی ہیں یہاں کیوں نہیں بن سکتیں۔

ماضی میں نعمت اللہ خان نے روڈز کو کمرشلائزڈ کیا مگر عدالتوں میں فیصلہ چیلنج ہوتا ہے۔تعمیراتی صنعت کو وزیرآعظم نے گیم چینجر کہا ہے مگر باتیں کرنے سے تو کچھ نہ ہوگا عمل کی ضرورت ہے۔

اب ردِعمل سے باہر نکل کر چیزوں کو حتمی شکل دی جائے۔ہم پالیسیاں بناتے ہیں مگر مافیاز رکوا دیتے ہیں۔

ہم نے لاہور، اسلام آباد کی طرح کراچی میں فوڈ اسٹریٹ بنا دی اور سڑک کو صرف پیدل چلنے کے لیے مختص کردیا تو سب خوش ہوئے اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں تھا۔ اب کاروبار تین گنا بڑھ گیا تو کوئی صاحب عدالت چلے گئے اور اس پر روک لگوادی۔

کل کے اخبار میں پڑھا کہ عدالت نے کہا ہے کہ متبادل روٹ پلان دیں۔ کسی بھی اچھے کام کے خلاف عدالت میں جب کوئی شخص جاتا ہے تو سرکاری افسر کام نہیں کر پاتا ہم لوگ باتوں میں پھنس گئے ہیں۔

سندھ حکومت کام کرنا چاہتی ہے لہذا ہمیں کام کرنے دیا جائے۔ہم سب جب تک ملکر کام نہیں کریں گے بہتر نتائج نہیں ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مردہ جانوروں کی باقیات اور بیٹری پگھلانے والوں کے خلاف کارروائی کی تو کسی نے ٹویٹر پر کہا کہ موبائل سیٹ اپ ہے آتا ہے بھاگ جاتا ہے۔

ہم نے سیپا کے افسر منیر عباسی کو ٹارگیٹ دیا جس پر اس نے ایکشن لیا اور گرفتاری عمل میں آئی تو بہت بڑے آدمی کا فون آیا۔

ہمیں معلوم ہوا کہ پہلے یہ بلوچستان میں کام کرتا تھا وہاں پکڑا گیا پھر کراچی آیا پہلے شیر شاہ پھر ملیر میں اپنا غیر قانونی سیٹ اپ لگا لیا۔

پھر کچھ دن میرے خلاف پریس کانفرنسز ہوتی رہیں لیکن ہم نے اور ڈپارٹمنٹ نے کام کرنا نہیں چھوڑا اور ماحولیات کی بہتری کے لی اب بھی کوشاں ہیں اس کے لیے سوسائٹی میں موجود ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس سے قبل سیکریٹری ماحولیات محمد اسلم غوری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور کہا کہ دنیا کی نوے فیصد آبادی غیر اطمینان بخش فضاء میں سانس لے رہی ہے۔ ایشیاء میں نوے فیصد اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے قبل از وقت ہوتی ہیں۔

سیمینار میں ڈی جی سیپا نعیم مغل، ماحولیاتی صلاح کاروں شاہد لطفی، ثاقب حسین کے علاوہ ڈاکٹر ظفر فاطمی اورپروفیسر ڈاکٹر نبیل زبیری نے بھی ٹیکنیکل پریزینٹیشن دی۔ سیمینار میں ماحولیاتی ماہرین، سرکاری افسران اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button