
اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مارٹن ڈاؤ گروپ کے چیئرمین علی اکھائی اور گروپ مینجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او جاوید غلام محمد نے وزیر اعظم ہاوس میں ملاقات کی۔
چیئرمین اور ایم ڈی مارٹن ڈاؤ گروپ نے وزیراعظم کو پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے صلاحیت اور ملکی معیشت میں اس کا کردار بڑھانے کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا۔
مارٹن ڈاؤ گروپ نے کراچی میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر (ایس کے ایم سی ایچ اینڈ آر سی) کے قیام کو سراہتے ہوئے اسپتال کے لیے دو بون میرو ٹرانسپلانٹ کمرے عطیہ دینے کی پیشکش کی ہے۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین مارٹن ڈاؤ علی اکھائی نے کہا کہ ہم وزیر اعظم عمران خان کے شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اور ریسرچ سینٹر کی ترقی اور توسیع کے لئے مخلصانہ کوششوں کو سراہتے ہیں۔
جو کہ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کو مفت علاج فراہم کرتا ہے۔ اس سہولت کے بغیر بہت مریضوں کو علاج تک رسائی حاصل نہیں ہوگی کیونکہ یہ عام آدمی کے لئے مہنگا اور ناقابل برداشت ہے۔
Mr. Ali Akhai – Chairman Martin Dow Group, Mr. Javed Ghulam Mohammad – Group MD & CEO Martin Dow called on Honorable Prime Minister – Imran Khan at his office.#MartinDowGroup #PharmaceuticalSector pic.twitter.com/tRIy5Y1FYo
— MartinDowLtd (@MartinDowltdPk) December 17, 2021
علی اکھائی نے مذید نشاندہی کی کہ بطور سماجی ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے ہر ایک تنطیم کو کو آگے بڑھ کر عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان میں مزید ایسے اسپتالوں کو بنانے کے لیے ہر تعاون کرنا چاہیئے۔
ملاقات کے دوران چیئرمین مارٹن ڈاؤ نے وزیر اعظم عمران خان کو مارٹن ڈاو گروپ کی تاریخ اور اعلیٰ معیار اور فلاحی کاموں کے بارے میں آگاہ کیا۔
پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے میں ٹیکنالوجی میں جدت اور اَپ گریڈیشن کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ جوکہ حکومت کے مسلسل تعاون سے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مارٹن ڈاو گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور مینجنگ ڈائریکٹر جاوید غلام محمد نے سرکردہ چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دواسازی کی صنعت میں استعمال ہونے والے ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء یعنی خام مال کو مقامی طور پر تیار کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا۔
اس طرح کی کاروباری شراکت داری اعلی درجے کی ادویات سازی میں خود انحصاری پیدا کرے گی۔ اور اس سے درآمدات میں قیمتی زرمبادلہ کی بچت بھی ہوگی اور درآمدات میں کمی ہوگی۔
وسطی ایشیا اور افریقی منڈیوں میں دوا سازی کی برآمدات کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جس سے غیر ملکی زرمبادلہ کمانے میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتاہے۔ جس سے پاکستان کی فارما کی صنعت ملکی مجموعی اقتصادی ترقی میں مذید بہتر کردار ادا کرتی رہے گی۔