ٹرانسفارمیشن پلان کی فیس لیس کسٹمزکلیئرنس اسیسمنٹ کےنفاذ سےقبل بھرپور انتظامی تیاری کرنی چاہیے تھی،سلیم ولی محمد۔
پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا ہے کہ بندرگاہوں پر خام مال سے لدے درآمدی کنسائنمنٹس پھنسنے کی وجہ سے صنعتی پیداوار اور برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس بابت چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوراً نوٹس لیتے ہوئے کسٹمز کلیئرنس کی تاخیر کے معاملات کو حل کریں۔
انہوں نے ایف بی آر کی جانب سے متعارف کردہ فیس لیس کسٹمز کلیئرنس اسیسمنٹ کی تعریف کی، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مؤثر انتظامات کی تیاری کی ضرورت تھی جو موجود نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر درآمدی کنسائنمنٹس کی بروقت کلیئرنس یقینی نہیں بنائی گئی تو یہ صنعتوں کے لئے سنگین مسائل پیدا کرے گی، اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل مشکل ہو جائے گی۔
سلیم ولی محمد نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو درآمدکنندگان کو ڈیمرج اور ڈی ٹینشن کی شکل میں بڑے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ فیس لیس کسٹمز کلیئرنس اسیسمنٹ کا صحیح نفاذ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب روزانہ کی بنیاد پر درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس میں تیزی لائی جائے اور بندرگاہوں پر موجود بیک لاگ کو ہنگامی بنیادوں پر ختم کیا جائے۔
چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے آخر میں کہا کہ اگر یہ اقدامات بروقت نہ کیے گئے تو ملکی معیشت کو بھی منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ برآمدات کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے۔