
کراچی : گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے آئندہ دو ماہ کیلئے پالیسی ریٹ کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 7 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا یے۔ یہ اعلان انہوں نے پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ آئندہ شرح سود 7 سے 9 فیصد تک رہنے کا مکان ہے۔ اس سے قبل اسٹیٹ بینک کی پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، بعدازاں درج ذیل بیان جاری کیا گیا۔
1۔ زری پالیسی کمیٹی(ایم پی سی) نے اپنے 22 جنوری 2021ء کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 7 فیصد پر برقرا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم پی سی نے کہا کہ نومبر میں گذشتہ اجلاس کے بعد اندرونِ ملک بحالی میں مزید تیزی آئی ہے۔
معاشی سرگرمی کے بیشتر اعدادوشمار اور صارفی و کاروباری احساسات کے اظہاریوں میں مسلسل بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ نتیجے کے طور پر مالی سال 21ء میں نمو کی 2 فیصد سے کچھ زیادہ کی موجودہ پیش گوئی میں اضافے کے خطرات ہیں۔
جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے،حالیہ اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غذائی اشیا پر رسدی حوالے سے قیمت کا دباؤ کم ہوا ہے اور قوزی مہنگائی (core inflation) اب بھی سازگار ہے۔ اگرچہ یوٹیلٹی کے نرخوں میں اضافے سے مہنگائی کچھ بڑھ سکتی ہے تاہم امکان ہے کہ یہ عارضی ہوگاجس کا سبب معیشت میں اضافی گنجائش اور مہنگائی کی توقعات کا قابو میں رہنا ہے۔
نتیجتاً اب بھی مہنگائی کے مالی سال 21ء کے لیے سابقہ اعلان کردہ حد 7-9 فیصد کے اندر رہنے اور وسط مدت میں رجحان 5-7 فیصد کی جانب ہونے کی توقع ہے۔ چونکہ رسدی لحاظ سے عارضی دھچکوں کے امکان کے سوا مہنگائی کا منظر نامہ قدرے سازگار ہے اس لیے ایم پی سی کی رائے تھی کہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں اور مالی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے زری پالیسی کا موجودہ گنجائشی (accommodative) موقف نوزائیدہ بحالی کو تقویت دینے کے لیے مناسب ہے۔
2۔ نمو اور مہنگائی کی ان مفید پیش رفتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے زری پالیسی کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی منظرنامے کے بارے میں خاصی بے یقینی برقرار ہے۔
عالمی سطح پر ابھی تک کووڈ کے بڑھے ہوئے کیسوں، نئی مشکلات کے نمودار ہونے اور دنیا بھر میں ویکسین کی تقسیم کے متعلق پائی جانے والی غیریقینی صورت حال کے پیش نظر اس وبا کی سمت کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔
ایسے بیرونی دھچکے معاشی بحالی کو سست کر سکتے ہیں۔ کووڈ سے متعلق پائی جانے والی بے یقینی کی روشنی میں زری پالیسی کمیٹی یہ مناسب سمجھتی ہے کہ زری پالیسی پر مستقبل کی رہنمائی فراہم کی جائے تا کہ پالیسی قابل پیش گوئی ہو اور اقتصادی عاملین کو فیصلہ سازی میں سہولت مل سکے۔
زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ غیرمتوقع پیش رفتوں کی عدم موجودگی میں زری پالیسی کی صورت حال مستقبل قریب میں تبدیل نہیں ہو گی۔ زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ بحالی کے زیادہ پائیدار ہو جانے اور معیشت کے مکمل استعداد پر لوٹ جانے کے ساتھ قدرے مثبت حقیقی شرح سود حاصل کرنے کے لیے پالیسی ریٹ میں کوئی ردوبدل متوازن اور بتدریج ہو گا۔
3۔ یہ فیصلہ کرنے میں ایم پی سی نے حقیقی، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں کلیدی رجحانات اور امکانات اور ان کے نتیجے میں زری حالات اور مہنگائی کے ابھرنے والے منظرنامے کو پیش نظر رکھا۔
حقیقی شعبہ
4۔ جولائی سے جاری معاشی بحالی حالیہ مہینوں میں مزید مستحکم ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) اکتوبر میں 7.4فیصد سال بسال اور نومبر میں 14.5 فیصد سال بسال بڑھی۔
مینوفیکچرنگ کی بحالی بھی وسیع البنیاد ہوتی جارہی ہے اور نومبر میں 15ذیلی شعبوں میں سے 12 نے مثبت نمو دکھائی اور روزگار بحال ہونا شروع ہوگیا ہے۔ اس مالی سال میں اب تک ایل ایس ایم 7.4 فیصد سال بسال بڑھی ہے جبکہ پچھلےسال کی اسی مدت میں 5.3 فیصد کا سکڑاؤ ہوا تھا۔
تاہم مینوفیکچرنگ سرگرمی کی سطح مالی سال کی اوسط سطح سے کم رہی جس سے معیشت میں مسلسل فاضل گنجائش کی نشاندہی ہوتی ہے۔ جہاں تک طلب کا تعلق ہے، بڑھتی ہوئی تعمیراتی سرگرمی کے باعث سیمنٹ کی فروخت مستحکم رہی، پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت دو سال کی بلند ترین سطح پر ہے، شہری (موٹر کار) اور دیہی (ٹریکٹر) مارکیٹوں دونوں میں گاڑیوں کی فروخت بڑھ رہی ہے۔
زراعت کے شعبے میں تازہ ترین پیداواری تخمینوں کے مطابق کپاس کی پیداوار توقع سے زیادہ گھٹنے کا امکان ہے۔ تاہم امکان ہے کہ دیگر اہم فصلوں میں بہتر نمو اور امدادی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گندم کی بلند پیداوار، اور ربیع کی فصلوں کے لیے کھاد اور کیڑے مار ادویات پر حال ہی میں اعلان کردہ زراعانت کی بدولت اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔
اگرچہ سماجی فاصلہ بدستور خدمات کے شعبے کے بعض حصوں پر ابھی تک منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، تاہم تھوک ، خردہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو تعمیرات اور مینوفیکچرنگ میں بہتری سے فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
بیرونی شعبہ
5۔ مسلسل پانچ مہینوں کے فاضل کے بعد دسمبر میں جاری کھاتے میں 662 ملین ڈالر کا خسارہ درج کیا گیا۔ اگرچہ ترسیلات زر اور برآمدات مستحکم انداز سے بڑھ رہی ہیں تاہم معاشی سرگرمی میں تیزی کے ساتھ مشینری اور صنعتی خام مال کی درآمد میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ گیا ۔ ساتھ ہی نیز ملکی منڈی میں طلب اور رسد کا فرق ختم کرنے کے لیے گندم اور چینی کی درآمدات بھی بڑھ گئیں۔
بہر کیف مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران جاری کھاتہ فاضل یعنی 1.1 ارب ڈالر رہا جبکہ گذشتہ سال کے اسی عرصے میں 2 ارب ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔ اس بہتری کا بنیادی سبب کارکنوں کی ترسیلات زر ہیں جو جزوی طور پر سفری پابندیوں نیز حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مددگار پالیسی اقدامات ، جن سے باضابطہ ذرائع کا استعمال بڑھا ہے، کی بنا پر رواں مالی سال کے ہر مہینے 2 ارب ڈالر سے اوپر رہی ہیں۔
مزید یہ کہ دسمبر میں بیرون ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد میں اضافہ مستقبل کے امکانات کے لیے نیک شگون ہے۔ حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ ستمبر سے برآمدات بھی بحال ہوکر اپنی کووڈ سے پہلے کی ماہانہ سطح تقریباً 2 ارب ڈالر پر آگئی ہیں اور دسمبر کے دوران تقریبا ً تمام زمروں میں برآمدی حجم میں وسیع البنیاد بحالی ہوئی ہے۔
جاری کھاتے کی مسلسل بہتر پوزیشن اور بہتر ہوتے ہوئے احساسات کے نتیجے میں پچھلے ایم پی سی اجلاس کے بعد روپے کی قیمت میں تھوڑا اضافہ ہوا اور بیرونی بفرز مزید مضبوط ہوگئے۔اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر بڑھ کر 13 ارب ڈالر ہوگئے ہیں جو دسمبر 2017ء سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
اب تک کے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق بیرونی شعبے کا منظرنامہ مزید بہتر ہوا ہے اور مالی سال 21ء کے لیے جاری کھاتے کے خسارے کے جی ڈی پی کے ایک فیصد سے نیچے رہنے کی پیش گوئی ہے۔
مالیاتی شعبہ
6۔ مالیاتی صورت حال زیادہ تر اس سال کے بجٹ کے مطابق رہی ہے اور حکومت اسٹیٹ بینک سے نئے قرضے نہ لینے کے عزم پر قائم ہے۔ بلند سودی ادائیگیوں اور کووڈ سے متعلق اخراجات کے باوجود محاصل کی بھرپور نمو نے مالی سال کے دوران اب تک مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھا ہے۔
عبوری تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں خالص ایف بی آر محاصل بالترتیب 3.0 فیصد اور 3.3 فیصد سال بسال بڑھے۔ براہ راست ٹیکسوں اور سیلز ٹیکس میں پھر تیزی آنے سے مالی سال 21ء کی پہلی ششماہی کے دوران ایف بی آر محاصل 5 فیصد سال بسال بڑھ کر ہدف کی سطح کے قریب آگئے۔
بلند غیر سودی جاری اخراجات کے باوجود جولائی تا نومبر کے دوران بنیادی توازن میں جی ڈی پی کے 0.5 فیصد کا فاضل درج کیا گیا جو گذشتہ سال کی اسی مدت سے 0.2 فیصدی درجے بہتر ہے۔
زری پالیسی اور مہنگائی کا منظرنامہ
7۔ ایم پی سی کی نظر میں بحالی کے اس ابتدائی مرحلے پر مالی حالات مناسب طور پر گنجائشی رہے اور پیش بینی کی بنیاد پر حقیقی پالیسی ریٹ تھوڑا سا منفی رہا۔ اسٹیٹ بینک کی ری فنانس سہولتوں کی بنا پر صارفی اور معینہ سرمایہ کاری قرضوں کے مسلسل بڑھنے کی وجہ سے پچھلے ایم پی سی اجلاس کے بعد سے نجی شعبے کے قرضوں میں حوصلہ افزا اضافہ دیکھا گیا۔
بعض شعبوں میں طلب کے بحال ہونے اور انونٹریز کم ہونے سے کووڈ کے آغاز سے اب تک پہلی بار جاری سرمائے (ورکنگ کیپٹل)کے قرضے بھی بڑھے ہیں اگرچہ ان کی سطح پچھلے سال سے کم ہے۔
8۔ زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔ پچھلے دو مہینوں میں9 فیصد کے قریب رہنے کے بعد عمومی مہنگائی نومبر میں گر کر8.3 فیصد پر آ گئی اور دسمبر میں مزید کم ہو کر8 فیصد ہو گئی۔
یہ جون2019ء کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔ اس کمی کا اہم سبب غذائی مہنگائی میں کمی ہے۔ سازگار موسم اور رسدی مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کے بعض اقدامات سے تلف پذیر اشیا، گندم، دالوں اور چاول کی قیمت کم ہو چکی ہے۔ مزید برآں، قوزی مہنگائی مالی سال21ء کے آغاز سے مسلسل قدرے دھیمی رہی ہے، جو معیشت میں فاضل استعداد کی موجودگی سے ہم آہنگ ہے۔
کاروباری اداروں اور صارفین کی مہنگائی کی توقعات قابو میں ہیں اور ان میں حالیہ مہینوں کے دوران کمی آئی ہے۔ نتیجتاً، بحالی کے اس مرحلے پر اس بات کا امکان نہیں کہ غذائی اشیا یا یوٹیلیٹی نرخوں جیسے مزید رسدی دھچکے دور ثانی کے اثرات (second-round effects)کے ذریعے مہنگائی پر دیرپا اثرات ڈال سکیں گے۔