
کراچی: پاکستان اور امریکہ ڈے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے مشترکہ طور پر پاکستان میں آئی ٹی بیس مارٹ کی نئی چین "عکاظ” کا آغاز کراچی میں ترکی کے ارطغرل ڈرامے میں عبد الرحمٰن کا معروف کردار ادا کرنے والے اداکار جلال الل نے کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جلال الل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کا تعلق بہت گہرا اور پرانہ ہے۔دونوں برادرانہ ملکوں میں بسنے والے عوام ایک دوسرے کے لیے محبت اور احترام کا جذبہ رکھتے ہیں.انہوں نے کہا کہ خلافت عثمانیہ سات بڑے دشمنوں سے جب لڑ رہا تھا اس وقت برصغیر کے مسلمانوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ وقت مشکل تھا لیکن برصغیر کے مسلمان ہمارے ساتھ رہے۔ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے برصغیر کے مسلمانوں نے ہمارا ہر طرح سے ساتھ دیا تھا، خلافت موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اگر آج وہ ہوتے تو ہم انکے ہاتھ چومتے۔
جلال الل نے پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات کے متعلق کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مزید قربت بڑھانے کے کیے تجارت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ استنبول سے عکاظ کے نام سے اس منصوبے کا آغاز ہوا ہے اور یہ بھی تجارتی فروغ کے لیے خوش آئند ہے۔جلال الل نے مزید کہا کہ وہ وقت آگیا ہے کہ دونوں مملک کو آمددرفت کے لیے ویزے کی شرط ختم کردی جائے، فیصلہ سازوں کو اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلقات میں مزید بہتری کے لیے اس طرح کے مزید پروگرام شروع کیے جانے چاہئیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عکاظ کے سی ای او سید سعد شاہ کا کہنا تھا کہ عکاظ مکہ مکرمہ کا ایک مشہور بازار تھا اسی مناسبت سے پاکستان میں مارٹ کے نئے برانڈ کا نام رکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو معیاری اور سستی اشیاء ایک چھت کے نیچے فراہم کرنا ہماری بنیادی ترجیح ہے، اس سے کریانہ کی دکانیں بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہوسکیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس اسٹور چین کو بنانے سے قبل تمام ضروری پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے. کوشش ہے عوام کو ایک بہتر ماحول میں معیاری اور سستی اشیاء ایک چھت تلے فراہم کی جائیں۔
سعد شاہ نے کہا کہ کراچی ملک کا بڑا شہر ہے یہاں کام کرنے کی بہت گنجائش ہے، اس منصوبے سے جہاں عوام کو ریلیف ملے گا وہیں شہر میں نئے کاروبار کرنے والوں کو بھی کاروبار کرنے کا موقع ملے گا۔سی ای او عکاظ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو لیکر ہم ترکی اسٹارٹر پروگرام میں گئے اور وہاں ہمارا یہ منصوبہ بہترین 100 منصوبوں میں شام ہوا جس سے بہت حوصلہ ملا ہے، کوشش کی کہ اس منصوبے کا آغاز اپنے ملک پاکستان سے کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اسٹور چین کو بنانے سے قبل تمام ضروری پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اس منصوبے سے جہاں عوام کو ریلیف ملے گا وہیں شہر میں نئے تاجروں کو بھی کاروبار کرنے کا موقع ملے گا۔