
ملتان: مارٹن ڈاؤ اور سوسائٹی آف اوبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹ آف پاکستان (SOGP) نے حال ہی میں ملتان کے مقامی ہوٹل میں ایک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا، جس کے دوران ”حمل اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے دوران ممنوعات اور حقائق“ پر روشنی ڈالی گئی۔
مارٹن ڈاؤ اور ایس او جی پی کے زیر اہتمام سمپوزیم میں معاشرے میں پائے جانے والے غیر ضروری تصورات و ممنوعات، جس پر دوران حمل خواتین کی بڑی تعداد کا پختہ یقین ہوتا ہے کے بارے میں شعور کو اجاگر کیا گیا۔
مارٹن ڈاؤ سمپوزیم کے ذریعے حمل اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے حوالے سے پائے جانے والے دقیانوسی خیالات اور ہر قسم کے ممنوعات کے خاتمے کی کوشش کی گئی جس کا عام طور پر مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
مارٹن ڈاؤ کے ڈائریکٹر بزنس یونٹ فواد عباسی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مارٹن ڈاؤ بنیادی طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ گائنی کے شعبے کے معروف ہیلتھ کیئر پروفیشنلز (HCPs) کے ساتھ وابستہ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ حمل اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے دوران پائی جانے والی رکاوٹوں کے حوالے سے عقلی و سائنسی شواہد پر مبنی موثر منصوبہ بندی کی جاسکے۔
یہ سمپوزیم ان تمام اہم سائنسی طریقوں کا احاطہ کرنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے جو حمل کے دوران اہم ہیں، جبکہ دوسری طرف ان پہلوؤں کو نظر انداز کرنا بھی ضروری ہے، جو مریضوں کو گمراہ کرتے ہیں اور جس کا منفی تاثر معاشرے میں ہرجانب پھیل رہا ہے۔
معروف ہیلتھ کیئر پروفیشنلز جن میں پروفیسر ڈاکٹر سمیع اختر، پروفیسر ڈاکٹر ہما قدوسی، پروفیسر ڈاکٹر شاہد ارشاد راؤ، پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حاجرہ مسعود، پروفیسر ڈاکٹر عارف صدیق، ایس او جی پی ملتان چیپٹر اور فیکلٹی نشتر میڈیکل ہسپتال اور یونیورسٹی ملتان کی ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر نصرت بزدار شامل ہیں، نے خواتین کو حمل اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کے دوران پیش آنے والے مسائل اور ممنوعات کے بارے میں مفید معلومات اور مشورے دیے جو کہ زیادہ تر غیر سائنسی تھے۔
اکثر خاندان کے بزرگ خواتین کو حمل کے دوران کیا کرنے اور نہ کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کو بار بار نہانے سے منع کیا جاتا ہے، بار بار سفر کرنے سے روکا جاتا ہے، سیڑھیوں پر چڑھنے یا جھکنے سے گریز کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
یہ سب واہمے ہیں جو اسقاط حمل کا باعث بن سکتے ہیں۔ مضمرات کے برعکس یہ سب ہمارے معاشرے میں رائج غیر سائنسی اور غلط تصورات ہیں۔