
وزیر اعظم شہباز شریف کا بجلی کے نرخوں میں بڑی کمی کا اعلان:
بجلی کے نرخوں میں کمی کی تفصیلات:
وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 7.41 روپے فی یونٹ کی کمی کی جائے گی،
جس کے بعد نئی قیمت 34.37 روپے فی یونٹ ہو جائے گی۔
اسی طرح، کمرشل صارفین کے لیے بھی بجلی کی قیمت میں 7.59 روپے فی یونٹ کی کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
معاشی صورتحال اور بجلی کی پیداوار:
یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان میں فروری 2025 میں بجلی کی پیداوار 6,945 گیگاواٹ آور تک گر گئی ہے،
جو گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے کم سطح ہے۔
اس میں گزشتہ مہینے کے حساب سے 15 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے،
جو کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کی سست روی کی نشانی ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط اور مذاکرات:
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی معیشت کی بحالی کے لیے بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے
اور حکومت کو ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔
مالی بچت اور آمدنی کے ذرائع:
وزیر اعظم نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی تعریف کی اور بتایا کہ
ان کی مدد سے حکومت نے 3,669 ارب روپے کی بچت کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرکلر ڈیٹ کے 2,393 ارب روپے کے حل کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
معاشی اصلاحات کا ایجنڈا:
انہوں نے کہا کہ ملک اب بنیادی استحکام حاصل کر چکا ہے اور اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
وزیر اعظم نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے میں حمایت کی بھی تعریف کی ہے۔
معاشی ترقی کے لیے ضروری اقدامات:
وزیر اعظم نے یاد دہانی کرائی کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو چکی ہے
اور پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں۔
ساتھ ہی، انہوں نے پالیسی ریٹ کو 22.5 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کرنے کا بھی ذکر کیا،
جس میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی توقع ہے۔
بجلی کے نرخوں میں کمی کے اسباب:
بجلی کی قیمتوں میں کمی چند اہم اقدامات کے نتیجے میں ممکن ہوئی،
جن میں پچھلے معاہدوں کا خاتمہ اور نئے معاہدوں کی تجدید شامل ہیں۔
بیگاس پاور پلانٹس کی کرنسی تبدیلی اور سرکاری پاور پلانٹس کے لیے ریٹرن آن ایکویٹی میں کمی بھی اس عمل کا حصہ ہے۔
عوامی مسرت اور انتظامی صلاحیت کی بحالی:
ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ عوامی بے چینی کو کم کرنے اور حکومت کی مالیاتی انتظامی صلاحیت پر
دوبارہ اعتماد حاصل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ پچھلے ماہ، آئی ایم ایف نے حکومت کو بجلی کے نرخ میں کمی کی اجازت دی تھی،
جو کیپٹیو پاور پلانٹس پر عائد لیویز کے ذریعے پوری کی جائے گی۔