
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کا ریکارڈ اضافہ:
امریکی ٹیرف کے اثرات:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ نئے ٹیرف کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔
سونے کی قیمت فی اونس 3163 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی،
جبکہ یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اکتیس سو چھبیس ڈالر پر بھی برقرار رہی۔
سونے کی قیمت میں اضافے کی وجوہات:
ماہرین کے مطابق عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات نے سونے کی قیمت میں اضافے کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے پیشگوئی کی ہے کہ سونے کی قیمتیں آنے والے چند ہفتوں میں 3300 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہیں،
جس کی وجہ سے سرمایہ کار اسے ایک محفوظ
سرمایہ کاری کا متبادل سمجھ رہے ہیں۔
پاکستان میں مارکیٹ کی صورتحال:
پاکستان میں عید الفطر کی چھٹیوں کی وجہ سے سونے کی مارکیٹ بند رہی، جس سے مقامی سرمایہ کار متاثر ہوئے۔
دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں:
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں 0.7 فیصد کمی آئی اور یہ 33.83 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوئی۔
اسی طرح، پلاٹینم کی قیمت 984.25 ڈالر، جبکہ پیلیڈیم کی قیمت 986.79 ڈالر فی اونس رہی۔
سونے کی سرمایہ کاری کی اہمیت:
سونا روایتی طور پر سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی کی صورت میں ایک محفوظ سرمایہ کاری تسلیم کیا جاتا ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں رواں سہ ماہی میں سونے کی قیمت میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا،
جو کہ ستمبر 1986 کے بعد کسی ایک سہ ماہی میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
دیگر عوامل کا اثر:
کاروباری ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی، مرکزی بینک کی جانب سے سونے کی خریداری، اور
ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ (ETF) کی بڑھتی ہوئی طلب جیسے عوامل بھی سونے کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کا سبب بنے ہیں۔