
کراچی: اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مشاورتی اجلاس کے بعد اعلان کردیا، کہتے ہیں 26 مارچ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مولانافضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ الیکشن مشترکہ طور پر لڑیں گے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایسے لوگوں کو سینیٹر بنانا چاہتی ہے جسے خود انکے لوگ پسند نہیں کرتے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بنائے گئے کمیشن کو مستردکرتی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا کہ پی ڈی ایم سرکاری ملازمین کے شانہ بشانہ رہےگی، ہم انکےاحتجاج میں شانہ بشانہ ہونگے جبکہ قومی اسمبلی، سینیٹ میں اسپیکر اور چیئرمین کے رویوں کیخلاف احتجاج جاری رہے گا۔
پی ڈی ایم سربراہ نے وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا کو چور اور کرپٹ کہنے والا سب سے بڑا کرپٹ ثابت ہواہے، اوپن ٹرائل کا ڈراما رچایا گیا، اب عمران خان صادق و امین نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی غیر جمہوری عمل کےخلاف ہے۔
پی ڈی ایم قیادت 5 فروری کو مظفر آباد میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لیے جلسہ عام کریگی۔
سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے حکومت کی مجوزہ 26 آئینی ترمیم مسترد کردی ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اور استعفوں کا فیصلہ سینیٹ الیکشن کے بعد کریں گے۔