
کراچی: مارٹن ڈاؤ مارکر اور ڈاکٹر ضیاء الدین اسپتال کے زیر اہتمام ”نمونیا کے عالمی دن“ کے موقع پر ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا۔
سیمینار کا مقصد 5 سال سے کم عمر پاکستانی بچوں کے لیے نمونیا موت کا موت کا سبب بنتا ہے اس حوالے سے شعور اجاگر کرنا ضروری ہے۔
سیمینار میں سینے کے امراض کے ماہرین اور معروف ہیلتھ کیئر پروفیشنلز (HCPs) نے پاکستان میں نمونیا کے خاتمے یا کیسز میں کمی کے طریقوں اور ذرائع پر بات چیت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ بڑی عمر کے افراد میں نمونیا کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ سینہ کا درد، کھانسی، سردی والا بخار نمونیہ کی علامات ہیں لیکن کوئی مریض طبی طور پر صحت مند ہو تو اس کو سٹی اسکین کی ضرورت نہیں۔
ڈاکٹر زین یوسف کا کہنا تھا کہ بچے کی پیدائش کے بعد اگر اُسے سانس لینے میں دشواری ہو تو یہ نمونیا ہوسکتا ہے۔ بروقت اور صحیح ٹریٹمنٹ نہ دیا جائے تو اس کے بہت نقصانات ہوسکتے ہیں۔
مارٹن ڈاؤ کے چیف مارکیٹنگ آفیسر ڈاکٹر عاطف الرحمن نے کہا کہ نمونیا پاکستان سمیت دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے 5 سال سے کم عمر پاکستانی بچوں کی اموات سب سے زیادہ ہوئی ہے اور پاکستان میں یہ عام بیماری۔
اعداد و شمار کے مطابق ہر گھنٹے میں 7 بچے اس بیماری سے جاں بحق ہوجاتے ہیں، جو نہایت افسوسناک ہے۔ نمونیا کا خاتمہ یا کمی حکومت اور دیگر شراکت داروں میں تعاون سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ 19 عالمی وباء مثال ہے، جب سب نے مل کر اس کا مقابلہ کیا جس کے نتیجے یہ ہوا کہ اس بیماری میں کمی آگئی۔ ایک اور مثال پولیو کی ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے جب اس بیماری کے خاتمے کے لیے مل کر کام کیا تو انہیں اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔