
حکومت کی جانب سے اسمگلنگ نیٹ ورک کے ملوث افسران کے خلاف تحقیقات کا اعلان
پاکستان میں ایک بڑے اسمگلنگ نیٹ ورک کا انکشاف، 78 افراد ملوث
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسمگلنگ نیٹ ورک کے ملوث ایک بڑی تعداد میںافسران اور اسمگلرز کے خلاف مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق، اسمگلنگ نیٹ ورک میں 78 افراد شامل ہیں،
جن میں سے زیادہ تر کا تعلق کسٹمز کے افسران سے ہے۔
افسران کے خلاف تحقیقات:
فیڈرل بورڈ آف ریویو کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسی نے حکومت کو ایک رپورٹ دی ہے
جس میں بتایا گیا ہے کہ اسمگلنگ نیٹ ورک میں بعض افراد وفاق کی انتہائی اعلیٰ سطح پر تعینات ہیں۔
انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق، افسران نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ
اس نیٹ ورک میں بعض افراد کوئٹہ، پنجاب، اور اسلام آباد سے غیر ملکی اشیا اسمگل کرتے ہیں۔
تحقیقات کا مقصد:
انٹیلی جنس ایجنسی نے کہا کہ تحقیقات کا مقصد صرف اس بات کا پتہ لگانا ہے کہ
اسمگلنگ نیٹ ورک میں ملوث افراد کون ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے، جو کہ اس ماہ کے آخر تک مکمل ہوگی۔
اسمگلنگ کا منصوبہ:
رپورٹ کے مطابق، اسمگلنگ نیٹ ورک میں 37 بدعنوان کسٹم افسران اور 41 اسمگلرز شامل ہیں
جو کوئٹہ سے غیر ملکی اشیا پنجاب اور اسلام آباد اسمگل کرتے ہیں۔
اس میں سگریٹ، ٹائرز، کپڑے، اور دوسری اشیا شامل ہیں۔
سمجھوتے کا امکان:
ذرائع کے مطابق، اس اسمگلنگ نیٹ ورک میں مولوث افسران کے ساتھ سمجھوتے بھی کیے جا سکتے ہیں۔