بزنستازہ ترینرجحان

پی ایف وی اے نے رواں سیزن کے لیے آم کی ایکسپورٹ کے ہدف کا اعلان کردیا

رواں سیزن آم کی ایکسپورٹ کے لیے ڈیڑھ لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو پورا ہونے سے پاکستان کو 12 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

شیئر کریں

کراچی: آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق گزشتہ سیزن آم کی ایکسپورٹ کا۔

ہدف کرونا کی وباء کے معاشی اثرات اور لاجسٹکس چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے 80 ہزار ٹن رکھا گیا تھا تاہم ایکسپورٹ ایک لاکھ 40 ہزار ٹن رہی جس س12 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔

سرپرست اعلیٰ پی ایف وی اے وحید احمد
سرپرست اعلیٰ پی ایف وی اے وحید احمد

وحید احمد نے کہا کہ پاکستان کی ام کی 100 ارب روپے کی صنعت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور پانی کی قلت کے مسائل کا سنا ہے دوسری جانب ایئرلائنز کی جانب سے پروازیں محدود کیے جانے، پروازوں پر پابندی اور فضائی راستے سے ایکسپورٹ پر بھاری فریٹ کی وجہ سے ایکسپورٹ کی لاگت بڑھ رہی ہے۔

گزشتہ سال کے برعکس اس سال سمندری راستے سے بجی ایکسپورٹ کو مشکلات درپیش ہیں جن میں کنٹینرز کی قلت اور بلند فریٹ شامل ہیں۔

پاکستان سے 55 فیصد ام سمندری راستے سے ایکسپورت کیا جاتا ہے جبکہ 25 فیصد زمینی راستے اور 20 فیصد فضائی راستے سے ایکسپورت کیا جاتا ہے۔

وحید احمد نے کہا کہ پی ایف وی اے نے حکومت کو روس اور چین کی منڈیوں پر توجہ دینے کی تجویز دی ہے اور رواں سیزن روس اور چین میں پاکستانی آم کی تشہیر کے لیے مینگو شوز منعقد کرنے کی سفارش کی ہے۔

رواں سال پاکستان نے آم کی ایکسپورٹ کا اعلان کردیا
رواں سال پاکستان نے آم کی ایکسپورٹ کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا کہ مربوط حکمت عملی اور حکومت کی سرپرستی میں پاکستان کو آئندہ چار سے پانچ سال میں دنیا میں آم ایکسپورٹ کرنے والے تین سرفہرست ملکوں میں شامل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے بہتر قیمت دینے والی منڈیوں پر توجہ دینا ہوگی جن میں جاپان، امریکا، آسٹریلیا، سائوتھ کوریا اور چین شامل ہیں۔

ان ملکوں میں پاکستانی ام کے لیے رسائی بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے زریعے پاکستانی آم کی ظاہری خوبصورتی اور معیار میں بہتری لائی جائے۔

وحید احمد کے مطابق پاکستان میں کلائمنٹ چینج کے اثرات گزشتہ پانچ سال سے آم کی فصل پر مرتب ہورہے ہیں آم کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے اور موسم کی تبدیلیوں کی وجہ سے آم کی فصل تیار ہونے کے وقت میں دو ہفتوں کا اضافہ ہوچکا ہے۔

آم کی فصل تاخیر سے تیار ہورہی ہے ساتھ ہی آم میں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے۔

ان عوامل کی وجہ سے رواں سیزن بھی آم کی پیداوار میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ رواں سیزن سندھ پنجاب میں آم کی مجموعی پیداوار 18 لاکھ ٹن تک رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا تاہم موسمیاتی اثرات کی وجہ سے پیداوار 15 فیصد تک کم رہنے کا خدشہ ہے۔

آم کی فصل سندھ میں زیادہ متاثر ہوئی ہے جس میں ہے جس میں بارشوں اور آندھی کی صورت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

وحید احمد کے مطابق کلائمنٹ چینج کے زرعی شعبے بالخصوص بڑی فصلوں اور پھلوں کی پیداوار پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تاحال کوئی جامع ریسرچ نہیں کی گئی جس کی روشنی میں کسانوں اور کاشتکاروں کو رہنمائی فراہمی کی جاسکے اور پیداوار میں کمی اور نقصانات کو روکا جاسکے۔

پی ایف وی اے نے ویژن 2030کے تحت صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے جامع روڈ میپ دیا ہے جس پر وفاق اور صوبائی حکومتیں عمل کرکے پاکستان کے زرعی شعبہ کو کلائمنٹ چینج کے اثرات سے محفوظ بناسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے مقررہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے ایکسپورٹ سے جڑے ہوئے تمام اداروں، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ، کسٹم، سی پورٹ اور ایئر پورٹ اتھارٹیز کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button