
فیصلے سے معیشت بڑے نقصان سے بچ گئی، آئندہ چند ماہ میں ایکسپورٹ میں اضافے کا امکان روشن ہوگیا، زبیر طفیل
کراچی: اسٹیٹ بینک نے ایل سیز کے اجراء پر عائد پابندی 2جنوری 2023 سے ہٹانے کا سرکلر جاری کردیا۔ سرکلر کے مطابق 5جولائی 2022 کو جاری اعلامیہ میں ایچ ایس کوڈ چیپٹر 84، 85اور کچھ آئٹمز 87کی امپورٹ پر پابندی عائد کی تھی۔
جس پر بزنس کمیونٹی کا مطالبہ تھا کہ خام مال اور ضروری اشیاء کی امپورٹ کی اجازت دی جائے۔ جسے اسٹیٹ بینک نے منظور کرتے ہوئے 2جنوری 2023سے مذکورہ چیپٹرز کی امپورٹ پر اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جاری سرکلر میں ضروری اشیاء جس میں گندم، خوردنی تیل، فارما سیوٹیکل انڈسٹری کا خام مال، زندگی بچانے کی ضروری ادویات، سرجیکل آلات اور اسٹنٹس کی درآمد پر پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح توانائی کے شعبے میں وزارت توانائی کے میرٹ آرڈر کے مطابق آئل، گیس اور کوئلہ کے درآمد پر بھی پابندی اٹھائی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری سرکلر میں برآمدات سے منسلک انڈسٹری کے خام مال، اسپیئر پارٹس ، زرعی شعبے کیلئے بیج، فرٹیلائزر اور کیڑے مار ادویات بھی شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے سرکلر پر یونائیٹڈ بزنس گروپ (یوبی جی) کے صدر اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیر طفیل نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت نے بزنس کمیونٹی کے دیرینہ مطالبے کو منظور کرکے معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے بچا لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ضروری اشیاءاور خام مال پر ایل سی کے اجراءپر عائد پابندی ہٹانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ اس پابندی سے ضروری خام مال کی قلت پیدا ہوگئی تھی جس سے ایکسپورٹ کے شعبے کا بھی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کو شکریہ ادا کرتے ہوئے اس انڈسٹری کیلئے احسن اقدام قرار دیا۔
زبیر طفیل نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے آئندہ چند ماہ میں برآمدات میں بھی اضافہ کا امکان روشن ہوگیا ہے۔